Saturday, 26 May 2018

چلو سب مے کشو ! آؤ ! اسی کے شہر چلتے ہیں وہاں اس کی حکومت ہے ,سنا ہے ,واں اجازت ہے


اجازت ہے ؟ سجا لوں  محفلِ یارا ں ! اجازت  ہے ؟؟
مٹا لوں میں اگر ساقی ,غمِ جاناں ,اجازت ہے ؟؟

حسیں زلفیں پریشاں ہیں , اجازت ہو , تو سلجھا دوں ؟؟
وہ جھجکے ,مسکرائے, پھر  کہا ! ہاں ہاں !  اجازت ہے 

چلو سب مے کشو ! آؤ ! اسی کے شہر چلتے ہیں
وہاں اس کی حکومت ہے ,سنا ہے ,واں اجازت ہے

فقط اک بار ہمت کی , کہا ! پلو پکڑ لوں میں ؟؟
وہ اترائے, وہ شرمائے, کہا ! کیا یاں,  اجازت ہے ؟؟

تمہیں اب سب اجازت ہے, جو جی چاہے وہ کر لو تم
تمہیں آزاد کرتے ہیں___ دلِ ناداں اجازت ہے

محبت ہے ، محبت ہے ، محبت ہے ، محبت ہے
کتابِ زندگی کو دوں میں یہ عنواں,  اجازت ہے ؟؟

سنا ہے کہ محبت نے تمہیں یکسر بدل ڈالا ؟؟
جو جی چاہے وہ کرتے ہو ، تمہیں چنداں اجازت ہے؟؟

عجب الجھن رہی دانش! اگرچہ ساتھ تھے دونوں
چلو اچھا ! نہیں چھوڑو ! ارے! ناں ناں ! اجازت ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...