Saturday, 26 May 2018

میرا گھر بھی مری غربت کی گواہی دے گا میری دہلیز سے لپٹے گی جفا روئے گی😓


پھول سوچیں گے مجھے باد صبا روئے گی
موت آئے گی مجھے،مجھ پہ قضا روئے گی

میرا پرسہ میرے یاروں کو محبت دے گی
میری  ویرانی  تربت  پہ  وفا روئے  گی

صحن غربت میں ہے آسودگی میرے دم سے
میرے حالات پہ تقدیر بڑا روئے گی

راستے مجھ سے مسافر کو بہت ڈھونڈیں گے
ریت پر لکھ کے مرا نام ہوا روئے گی

میرا گھر بھی مری غربت کی گواہی دے گا
میری دہلیز سے لپٹے گی جفا روئے گی😓

یاد آئے گی اسے جب بھی کوئی بات مری
میری تصویر کو آنکھوں میں سجا روئے گی

بلآل کہنا اسے سانس ابھی چلتی ھے 
مجھ پہ گر بعد میں روئے گی تو کیا روئے گی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...