اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے
مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے
سانس لینے کا بھی تاوان کیا جائے وُصول
سب سِڈی دُھوپ پہ کچھ اور گھٹا دی جائے
رُوح گر ہے تو اُسے بیچا ، خریدا جائے
وَرنہ گودام سے یہ جنس ہٹا دی جائے
قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے
پیار سے دیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے
تجزیہ کر کے بتاؤ کہ منافع کیا ہو
بوندا باندی کی اَگر بولی چڑھا دی جائے
آئینہ دیکھنے پہ دُگنا کرایہ ہو گا
بات یہ پہلے ، مسافر کو بتا دی جائے
تتلیوں کا جو تعاقب کرے ، چالان بھرے
زُلف میں پھول سجانے پہ سزا دی جائے
یہ اَگر پیشہ ہے تو اِس میں رِعایت کیوں ہو
بھیک لینے پہ بھی اَب چنگی لگا دی جائے
کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو
بے لگانوں کی تو بستی ہی جلا دی جائے
حاکمِ وَقت سے قزاقوں نے سیکھا ہو گا
باج نہ ملتا ہو تو گولی چلا دی جائے
کچی مِٹّی کی مہک مفت طلب کرتا ہے
قیس کو دَشت کی تصویر دِکھا دی جائے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment