ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے.
پوری دل کی یہی جستجو کیجیے.
آپ کی دشمنی کا میں ہوں معترف.
وار کیجے مگر دو بدو کیجیے.
دامن دل کی لاکھوں ہوئیں دھجیاں.
کیجیے کیجیے اب رفو کیجیے.
پھول موسم میں کانٹوں کے بیوپار سے.
جسم و جان و جگر مت لہو کیجیے.
زندگی ہو مگر. درد ہجراں نہ ہو.
ایسے جینے کی کیا آرزو کیجیے.
آپ کتنے حسیں ہیں نہیں جانتے.
آئینے کو ذرا روبرو کیجیے.
فرحتؔ جاں کی کیوں جستجو کیجیے.
بجھتے جیون کی کیا اب نمو کیجیے.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment