Thursday, 10 May 2018
زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور، عادلِ شہر ترے عدل کے معیار پہ تُھو
جِس کے پلّو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بُوٹ،
ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تُھو
جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلا کا ٹتی ہو،
ایسی تلوار مع صاحبِ تلوار پہ تُھو
شہر آشوب زدہ، اُس پہ قصیدہ گوئی،
گنبدِ دہر کے اس پالتو فنکار پہ تُھو
زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور،
عادلِ شہر ترے عدل کے معیار پہ تُھو
کاٹ کے رکھ دیا دنیا سے تری راغب نے،
اے عدو ساز، تری دانش بیمار پہ تُھو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment