نہ زمین میری حریف ہے نہ زمان میرے خلاف ہے
میں اک ایسا سچ ہوں جو تلخ ہے سو جہان میرے خلاف ہے
میں اک ایسا سچ ہوں جو تلخ ہے سو جہان میرے خلاف ہے
یہ عدالتوں کاہے معجزہ کہ گداگری کاشعورِ نو
سو مرے گواہِ عزیز ہی کابیان میرے خلاف ہے
سو مرے گواہِ عزیز ہی کابیان میرے خلاف ہے
اک اداس عہد کی حسرتیں اک عجیب دور کی حیرتیں
مرے دل میں کیسے سما گئیں مرادھیان میرے خلاف ہے
مرے دل میں کیسے سما گئیں مرادھیان میرے خلاف ہے
میں گداگروں کے دیار میں ہوں جو زندہ دفن مزار میں
مرا شوق میرا زوال ہے مرا گیان میرے خلاف ہے
مرا شوق میرا زوال ہے مرا گیان میرے خلاف ہے
میں زیاں کی رت کاچراغ تھا مگر عہد سود میں جل اٹھا
یہ سیاہ رات کا ہمنوا یہ جہان میرے خلاف ہے
یہ سیاہ رات کا ہمنوا یہ جہان میرے خلاف ہے
No comments:
Post a Comment