Wednesday, 9 May 2018

میں گداگروں کے دیار میں ہوں جو زندہ دفن مزار میں مرا شوق میرا زوال ہے مرا گیان میرے خلاف ہے


نہ زمین میری حریف ہے نہ زمان میرے خلاف ہے
میں اک ایسا سچ ہوں جو تلخ ہے سو جہان میرے خلاف ہے
یہ عدالتوں کاہے معجزہ کہ گداگری کاشعورِ نو
سو مرے گواہِ عزیز ہی کابیان میرے خلاف ہے
اک اداس عہد کی حسرتیں اک عجیب دور کی حیرتیں
مرے دل میں کیسے سما گئیں مرادھیان میرے خلاف ہے
میں گداگروں کے دیار میں ہوں جو زندہ دفن مزار میں
مرا شوق میرا زوال ہے مرا گیان میرے خلاف ہے
میں زیاں کی رت کاچراغ تھا مگر عہد سود میں جل اٹھا
یہ سیاہ رات کا ہمنوا یہ جہان میرے خلاف ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...