Wednesday, 9 May 2018

ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر جا ،خدا میرے طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے


ہرکوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرارکھے
کس کو سیراب کرے ہے کسے پیاسا رکھے
عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا
اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے
ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تو نام بھی تجھ سا رکھے
دل بھی پاگل ہے اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے  نہ اپنا رکھے
ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر
جا ،خدا میرے طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے
یہ قناعت ہے، اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...