یہی تو سوچ کر اب خوف آتا ہے مجھے اکثر
ابھی تو ٹھیک ہے لیکن تمہارے بعد کیا ہوگا
ہوائیں ہیں حوادث کی اڑا لے جائیں گی سب کچھ
اگر میں رہ گئی تنہا تو گھر آباد کیا ہوگا
نہ خوشبو ہے نہ سایا ہے نہ اُس کی کوئی آہٹ ہے
اب اس سے بڑھ کے میرا گھر بھلا برباد کیا ہوگا
جہاں اس زندگانی کا آخری اک موڑ آتا ہے
وہاں بھی ہوسکی مجھ سے نہ کچھ فریاد کیا ہوگا
مجھی میں رہ گیا گھُٹ گھُٹ کے میری ذات کا پنچھی
اگر آزاد اب ہوگا تو یہ آزاد کیا ہوگا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment