Tuesday, 15 May 2018

اتنی ہمت کہاں میرے عدو میں تھی میرے مقابل احباب کے لشکر آئے

جب بھی تیرے گھر کے برابر آئے
چار سو میسر ہمیں کتنے پتھر آئے

کل شب ہوا کے ہاتھوں پہ
کچھ سوکھے پھول میرے در پر آئے

چھپ گیا چاند، جب ستارے بجھ گئے
آنکھ میں تجھ سے بچھڑنے کے منظر آئے

ہاتھ بھول گئے، پھر دعا کا ہنر
تیرے در سے خالی جو پلٹ کر آئے       

اتنی ہمت کہاں میرے عدو میں تھی
میرے مقابل احباب کے لشکر آئے

دن بھر ضرورت نے رکھا مصروف
ڈھلی شام تو آنسو اُتر آئے

گھر گھر، ہنگامہ محشر ہے برپا
ہر موڑ پہ مقتل نظر آئے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...