Saturday, 26 May 2018

لاکھ کم ظرف ہوں لیکن مرے یارو پھر بھی اپنے دشمن سے عداوت نہیں ہوتی مجھ سے


اس کے حصے کی ریاضت نہیں ہوتی مجھ سے
عمر بھر ایسی..... عبادت نہیں ہوتی مجھ سے
عشق کا مان جو....... بخشا ہے یہ واپس لے لو
ایسی دولت کی حفاظت نہیں ہوتی مجھ سے
اس کا جانا بھی ہے .......فطرت کا تغیر گویا
اب کسی اور کی چاہت نہیں ہوتی مجھ سے
لاکھ کم ظرف ہوں لیکن مرے یارو پھر بھی
اپنے دشمن سے عداوت نہیں ہوتی مجھ سے
میرے اشکوں کو نہ ..دامن میں سمیٹے کوئی
اپنے اشکوں کی تجارت نہیں ہوتی مجھ سے
آﺅ لوگو مرے احساس........ میں پتھر بھر دو
اب کسی غم کی کفالت نہیں ہوتی مجھ سے
شعر لکھتا ہوں مگر .....خود سے کنارہ کرکے
اپنے جذبوں کی وکالت نہیں ہوتی مجھ سے
سہم کر لفظ لپٹ......... جاتے ہیں مجھ سے 
درد لکھنے کی جسارت نہیں ہوتی مجھ سے..

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...