کیسے گُزرے گا !! دُوسرا صاحب
تھوڑا چھوڑیں گے !! راستہ صاحب
میں کسی اور سے مخاطب ہوں
ناپیے !! اپنا راستہ صاحب
خود کمایا ہے جو گنواتا ہوں
آپ کا کیا ہے !! واسطہ صاحب
آئینہ توڑنے سے کیا ہوگا
عکس بِکھرے ہیں جا بجا صاحب
ہر گھڑی رُخ بدلنا پڑتا ہے
چھوڑیے !! اب یہ دائرہ صاحب
لیجیے مان لی محبت بھی !!
آپ اپنے !! میں آپ کا صاحب
دُور بھی ہو گا خُوب سب لیکن !!
دیکھیے !! کچھ تو پاس کا صاحب
دُودھ سے روز دُھل کے آتے ہیں
آپ سا !! کون پارسا صاحب
آپ کے ہاتھ سے نمک کھا کر
آپ پر !! کیسے بھونکتا صاحب
دو ہی تو خُوبیاں ہیں عابی میں
کج ادا اور بے حیا !! صاحب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment