Saturday, 26 May 2018

آپ کے ہاتھ سے نمک کھا کر آپ پر !! کیسے بھونکتا صاحب

کیسے گُزرے گا !! دُوسرا صاحب
تھوڑا چھوڑیں گے !! راستہ صاحب

میں کسی اور سے مخاطب ہوں
ناپیے !! اپنا راستہ صاحب

خود کمایا ہے جو گنواتا ہوں
آپ کا کیا ہے !! واسطہ صاحب

آئینہ توڑنے سے کیا ہوگا
عکس بِکھرے ہیں جا بجا صاحب

ہر گھڑی رُخ بدلنا پڑتا ہے
چھوڑیے !! اب یہ دائرہ صاحب

لیجیے مان لی محبت بھی !!
آپ اپنے !! میں آپ کا صاحب

دُور بھی ہو گا خُوب سب لیکن !!
دیکھیے !! کچھ تو پاس کا صاحب

دُودھ سے روز دُھل کے آتے ہیں
آپ سا !! کون پارسا صاحب

آپ کے ہاتھ سے نمک کھا کر
آپ پر !! کیسے بھونکتا صاحب

دو ہی تو خُوبیاں ہیں عابی میں
کج ادا اور بے حیا !! صاحب

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...