Tuesday, 26 June 2018

دستار نوچ ناچ کے احباب لے اڑے سر بچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائےگا


انصاف ظالموں کی حمایت میں جائےگا
یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائےگا

دستار نوچ  ناچ کے احباب لے اڑے
سر بچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائےگا

دوزخ کے انتظام میں الجھا ہے رات دن
دعوی یہ کر رہاہے کہ جنت میں جائےگا

خوش فہمیوں کی بھیڑ میں تو بھول کیوں گیا
پہلے مریے گا بعد میں جنت میں جائے گا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...