Monday, 25 June 2018

میں تو جس نام سے واقف تھا وہی نام لیا, نام سنتے ہی فلاں ابن ِ فلاں چونک پڑے.

ہجر کا حکم سنا، کون و مکاں چونک پڑے,
میں یہاں چونک پڑا ، آپ وہاں چونک پڑے.

میں تو جس نام سے واقف تھا وہی نام لیا,
نام سنتے ہی فلاں ابن ِ فلاں چونک پڑے.

وہ کسی اور ملاقات میں گم تھے شاید,
پہلے اقرار کیا بعد ازاں چونک پڑے.

جیسے آنکھوں سے کوئی عکس رواں ہونے لگے,
جیسے تصویر سے لپٹی ہوئی ماں چونک پڑے.

وہ سمجھتے تھے کہ میں صرف اذاں دیتا ہوں,
میں نے اک شعر کہا ، اہل ِ زباں چونک پڑے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...