ہجر کا حکم سنا، کون و مکاں چونک پڑے,
میں یہاں چونک پڑا ، آپ وہاں چونک پڑے.
میں تو جس نام سے واقف تھا وہی نام لیا,
نام سنتے ہی فلاں ابن ِ فلاں چونک پڑے.
وہ کسی اور ملاقات میں گم تھے شاید,
پہلے اقرار کیا بعد ازاں چونک پڑے.
جیسے آنکھوں سے کوئی عکس رواں ہونے لگے,
جیسے تصویر سے لپٹی ہوئی ماں چونک پڑے.
وہ سمجھتے تھے کہ میں صرف اذاں دیتا ہوں,
میں نے اک شعر کہا ، اہل ِ زباں چونک پڑے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment