Monday, 10 June 2019

بس گھڑی دو گھڑی کا تیرا ساتھ ہو، اس سے بڑھ کر محبت نہیں چاہئیے عمر بھر کے لئے بس یہی ہے بہت، عمر بھر کی یہ چاہت نہیں چاہئیے


بس گھڑی دو گھڑی کا تیرا ساتھ ہو، اس سے بڑھ کر محبت نہیں چاہئیے
عمر بھر کے لئے بس یہی ہے بہت، عمر بھر کی یہ چاہت نہیں چاہئیے
ایسی روٹھی محبت کا کیا فائدہ، جس میں شکوے نہ ہی لذتِ عشق ہو
نہ فدا ہو سکیں گرمئیےعشق میں، ایسی خستہ مروت نہیں چاہئیے
ایسی منزل کہ جسکو پا نہ سکیں، ایسا راہبر جو خود بھی بھٹکتا پھرے
ایسے رستے پہ چلنا مناسب نہیں، ایسی ناکس ہدائیت نہیں چاہئیے
جانتے ہو جہاں اجنبی ہو اگر، وہاں دل کا لگانا مناسب نہیں
جس جگہ سچ کا ذرہ اگر نہ ملے، اس وطن کی حکومت نہیں چاہئیے
عشق کی ابتدا عشق کی انتہا، عشق کی شرح کا گر نہ عامل ہوا
عشق حد سے نکالے اگر جانِ مَن، یہ جنوں ایسی رفعت نہیں چاہئیے
جسکو پڑھ کر بڑے دل کی آوارگی، جس کو پا کر سلگ جائیں دل کے زخم
چاہئیے تیری ارشد قلم کی رِدا، لیکن ایسی عبارت نہیں چاہئیے
میرا ذوقِ جنوں آزما لیجئیے، اپنی دیوانگی بھی بڑا لیجئیے
گرمحبت کا ٹھہروں نہ حق دارمیں، کہدو مجھ سے یہ الفت نہیں چاہئیے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...