Monday, 10 June 2019

شکریہ ! مجھ پہ کرم آپ کے فرمانے کا میں نہ آنے کا رہا اور نہ کہیں جانے کا!


حُسنِ کافر بنا عنواں مرے افسانے کا
رنگ آ ہی گیا کعبہ میں صنم خانے کا
شکریہ ! مجھ پہ کرم آپ کے فرمانے کا
میں نہ آنے کا رہا اور نہ کہیں جانے کا!
دل وہ دیوانہ کہ سنتا ہی نہ تھا بات کوئی
ہائے منظر وہ سرِ بزم بکھر جانے کا!
عشق میں ٹھیک ہے بیگانۂ دنیا ہونا
لطف کچھ اور ہے پر خود سے گزر جانے کا
دل کی دل ہی میں رہے بات، یہی ہے بہتر
”راز میخانے سے باہر نہ ہو میخانے کا“(1)
میں اسے یوں ہی تو کہتا نہیں حسرت آباد
آؤ دیکھو تو تماشا مرے ویرانے کا!
حالِ دل مجھ سے نہ پوچھو، کہ بتائے کیونکر
اک دوانہ بھلا غم دوسرے دیوانے کا؟
کیوں عبث آپ کو ہے موت کی خواہش سرور؟
زندگی نام ہے بے موت ہی مر جانے کا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...