Tuesday, 11 June 2019

دو جملوں میں دروازہ جاں سب بند کیے دیتے ہیں یہاں باتیں تو سبھی کرتے ہیں میاں دیوارِ انا کو ڈھانے کی


کسی پردہ غیب سے ظاہر ہو کوئی صورت ہجر کے جانے کی
کوئی ساعت سعد نوید تو دے پھر تیرے پلٹ کرآنے کی
مری باتیں سن کر کہتے ہیں احباب مرے اغیار مرے
یہ شخص ہے کون سی دنیا کایہ بات ہے کس کے زمانے کی
جو کچھ کہنا ہے کہہ پیارے مت خواب وخیال میں رہ پیارے
یہ لمحے کم کم آتے ہیں یہ رت بھی نہیں شرمانے کی
ہر سمت ہیں شعلوں کے ہالے کہتے ہیں مگر کچھ متوالے
کوئی رستہ اس تک جانے کا کوئی صورت آگ بجھانے کی
دو جملوں میں دروازہ جاں سب بند کیے دیتے ہیں یہاں
باتیں تو سبھی کرتے ہیں میاں دیوارِ انا کو ڈھانے کی
میں وہ ضدی تھا جس کے لیے ہر کارِ زیاں تھا راحتِ جاں
ویسے تو مرے ہمدردوں نے کوشش کی بہت سمجھانے کی
کیا خرچ کروں کب خرچ کروں اس سوچ میں ڈوبا رہتاہوں
اللہ کادیا سب کچھ ہے میاں مجھے فکر نہیں ہے کمانے کی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...