خطہ ِ اجر و مکافات سے نکلا ہوا ہے
دل سبھی طرز کے صدمات سے نکلا ہوا ہے
میں ذرا وقت سے کچھ آگے چلا جاتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ اوقات سے نکلا ہوا ہے
آٹھواں رنگ ہے چہرے پہ کسی سے مل کر
قد بھی کچھ شرفِ ملاقات سے نکلا ہوا ہے
مطمئن ہوں کہ مرے گاؤں میں رونق ہے ذرا
ورنہ یہ جشن مری مات سے نکلا ہوا ہے
شاہ زادی نے مجھے مل کے یہی سوچا تھا
یہ تقدس تو خرافات سے نکلا ہوا ہے
ایسا لگتا ہے کہ اس گھر میں بڑا کوئی نہیں
خیر کا وصف ہی خیرات سے نکلا ہوا ہے
حسرتیں اور پنپتی ہیں مرے ضبط کے ساتھ
مسئلہ اب تو مرے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے
یہ تعلق تو مقدر میں لکھا تھا لیکن
تو مری روح کی آیات سے نکلا ہوا ہے
اب دعا ہے کہ خدا خیر سے واپس لائے
دل سے اک شخص گئی رات سے نکلا ہوا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment