Tuesday, 11 June 2019

تیری چیخیں بھی کسی روز سنے گی دُنیا مصلحت کیش! اگر تو نے رُلایا ہے مجھے


یہ الگ بات، ہر اک دکھ نے لبھایا ہے مجھے
اے مری کاہشِ جاں! کس نے ستایا ہے مجھے
اتنی نفرت تو مرے دل میں نہ جاگی تھی کبھی
سوچ، کس شخص نے یہ زہر پلایا ہے مجھے
پھر کوئی تازہ کسک دل کی تہوں میں اُتری
پھر کسی خواب نے آئینہ دکھایا ہے مجھے
کس نے لوٹا ہے مرے ذہن کی سوچوں کا سہاگ
اے مرے قلب تپاں! کس نے چرایا ہے مجھے
تیری چیخیں بھی کسی روز سنے گی دُنیا
مصلحت کیش! اگر تو نے رُلایا ہے مجھے
میں یہی سوچ کے چپ ہوں کہ کسی طور سہی
گنبدِ درد کے کنگرہ پہ سجایا ہے مجھے
ابر تزویر ہوا جب بھی کبھی سایہ فگن
حدتِ شعلہ ادراک نے پایا ہے مجھے
میں تو سر تا بہ قدم تیرا فقط تیرا تھا
ظرفِ کم حوصلہ! خود تو نے گنوایا ہے مجھے
اُس کے گھر میں بھی کسی دُکھ کی سیاہی بھر دے
شب کی دہلیز کا پتھر تو بنایا ہے مجھے
تو مرا کیسا خدا ہے! مری لغزش تو بتا
زندگی بھر جو بلندی سے گرایا ہے مجھے
کس کے اخلاص سے کوتاہی ہوئی ہے احمد
کس نے اس ضبط کا انگارہ بنایا ہے مجھے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...