Tuesday, 11 June 2019

تو چاہے تو مجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے اس سے بڑھ کر میں تجھے شاد نہیں رکھ سکتا


دل فقط ہجر سے آباد نہیں رکھ سکتا
جانِ جاں اب میں تجھے یاد نہیں رکھ سکتا
تو چاہے تو مجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے
اس سے بڑھ کر میں تجھے شاد نہیں رکھ سکتا
تو اگر ہے تو کسی لمحہ موجود میں آ
وہم پر میں تیری بنیاد نہیں رکھ سکتا
پہلے خود اس کی اسیری کا طلب گار تھا میں
اور اب وہ مجھے آزاد نہیں رکھ سکتا
میرا وعدہ ہے تیرا ساتھ نبھاؤں گا ضرور
ہاں مگر میں کوئی میعاد نہیں رکھ سکتا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...