Thursday, 13 June 2019

زندگی تیری امانت ہے مگر کیا کیجئے لوگ یہ بوجھ بھی تھک ہار کے رکھ دیتے ہیں


سب قرینے اُسی دلدار کے رکھ دیتے ہیں
ہم غزل میں بھی ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں
شاید آ جائیں کبھی چشم ِخریدار میں ہم
جان و دل بیچ میں بازار کے رکھ دیتے ہیں
ذکر ِجاناں میں یہ دنیا کو کہاں لے آئے
لوگ کیوں مسٔلے بیکار کے رکھ دیتے ہیں
زندگی تیری امانت ہے مگر کیا کیجئے
لوگ یہ بوجھ بھی تھک ہار کے رکھ دیتے ہیں
ہم تو چاہت میں بھی غالب کے مُقلد ہیں فراز
جس پہ مرتے ہیں اسے مار کے رکھ دیتے ہیں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...