Thursday, 13 June 2019

کچھ اس طرح سے ترے غم کو کال کاٹتا ہے کسی کی جیب کو جیسے دلال کاٹتا ہے


کچھ اس طرح سے ترے غم کو کال کاٹتا ہے
کسی کی جیب کو جیسے دلال کاٹتا ہے
جئے کے عیب کو برتا ہے اس نے فن کی طرح
حرام کام سے روٹی حلال کاٹتا ہے
کسی غریب کا جینا بڑا کٹھن ہے میاں
یہاں وزیر پیادے کی چال کاٹتا ہے
مرے قبیلے پہ شب خون مارنے والے
یہاں تو موم بھی لوہے کی ڈھال کاٹتا ہے
میں جنگ جیت کے محفوظ لوٹ تو آیا
مگر غنیم کا مجھ کو ملال کاٹتا ہے
روایتوں کی صفیں ٹوٹتی نہیں سب سے
کئی برس میں کوئی ایک جال کاٹتا ہے
خموشی توڑ نہ دے ڈور کو تعلق کی
جواب دیجیے صاحب سوال کاٹتا ہے
ترے فراق میں یوں زندگی کٹی اپنی
غلام جیسے کسی گھر میں سال کاٹتا ہے
کچھ ایک روز تو لگتے ہیں سچ کی عادت میں
طفیلؔ جوتا نیا ہو تو کھال کاٹتا ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...