Saturday, 13 July 2019

تُو مرا ساتھ نبھا جسم سے گمراہ نہ کر یہ کھلونے مجھے بازار سے مِل جاتے ہیں


حوصلے اس لیے بنیاد سے ہل جاتے ہیں
عشق کی جنگ میں بازو نہیں دل جاتے ہیں
تُو مرا ساتھ نبھا جسم سے گمراہ نہ کر
یہ کھلونے مجھے بازار سے مِل جاتے ہیں
زخم وہ پھول ہیں جن کو نہیں درکار بہار
سخت موسم ہو تو یہ اور بھی کھل جاتے ہیں
دھوپ میں پیڑ کا کردار نبھانے والے
نم پکڑ جائیں تو پھر صورت ِ گِل جاتے ہیں
جب تلک درد ہو سینے میں زباں بولتی ہے
زخم سلتے ہیں تو پھر ہونٹ بھی سل جاتے ہیں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...