Saturday, 13 July 2019

طویل قد سے نہیں آتا بڑا پن کبھی بھی عاطف انسان کو اوصاف میں کردار میں بڑا ھونا چاہئیے


پیمانہ جو بھی ھو بس بھرا ھونا چاہئیے
اور اھل ظرف کے سامنے پڑا ھونا چاہئیے
وہ ڈالیں نہ ڈالیں نگاہ الفت انکی مرضی ھے
دیوانہ ان کی راہ میں کھڑا ھونا چاہئیے
کون کہتا ھے کہ میں سلامت پار چڑھوں
دریا میں جوش اور کچا گھڑا ھونا چاہئیے
وہی چاہئیے کی گردان ھونی چاہئیے لب پر
عاشق کو اپنی ضد پہ اڑا ھونا چاہئیے
تعلق خراب کرتے ہیں سب پرانے قصے
جو مردہ جہاں گڑا ھے وھاں گڑا ھونا چاہئیے
طویل قد سے نہیں آتا بڑا پن کبھی بھی عاطف
انسان کو اوصاف میں کردار میں بڑا ھونا چاہئیے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...