وہ جو بے یارو مددگار کہیں تھا میں تھا
دُور اک شخص کو یہ پھر بھی یقیں تھا، میں تھا
ایک ہی شخص مصیبت میں مرے ساتھ رہا
اور وہ شخص کوئی اور نہیں تھا میں تھا
پورے گاوں میں اگر سب سے الگ تھی، وہ تھی
اُن دنوں گاوں میں جو سب سے حسیں تھا میں تھا
جب محبت میں وظیفے بھی لگا کرتے تھے
یاد ہے! کون یہاں تخت نشیں تھا؟ میں تھا
میں نہیں مانتا میں تجھ سے بچھڑ سکتا ہوں
تُو جو کہتا ہے میں اُس وقت وہیں تھا، میں تھا؟
آپ اس گھر کی تباہی پہ ہیں افسردہ کیوں؟
جانتے ہیں کہ یہاں کون مکیں تھا؟ میں تھا
مجھ پہ مجھ سے بھی زیادہ اسے حق تھا ساحر
اُس سے بڑھ کر بھی کوئی اُس کے قریں تھا، میں تھا
جہانزیب ساحر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment