پسِ زندانِ انا قیدِ جفا کاٹتی ہے
زندگی روشنی ہے اور خلا کاٹتی ہے
دونوں ہاتھوں سے لگاتی ہے وہ قوسین کی حد
طیش میں آتے ہی پھر اپنا لکھا کاٹتی ہے
تُو نے اس دشت کا زنداں ابھی دیکھا ہی نہیں
دن کو جلتا ہے بدن شب کو ہوا کاٹتی ہے
کیسے ناکردہ گناہوں میں اٹھائی گئی ہے
کیسے کرموں کا کیا خلقِ خدا کاٹتی ہے
زخمِ ناسور سے اٹھتی ہے جونہی باسِ ہوس
تب طوائف اسے ڈھکنے کو ردا کاٹتی ہے
ہم نے تو دیکھا فقط نجمی ہے خستہ دیوار
کبھی سوچا ہی نہیں کون ہے؟ کیا کاٹتی ہے؟
*سیّد نجم الحسن نجمی فرام کہوٹ*
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment