رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے
وہ ہے تنہائی کہ برسات ہمیں کاٹتی ہے
تم جوکہتے ہو کہ بس رات گئی بات گئی
تم کو معلوم ہے یہ بات ہمیں کاٹتی ہے
اس نے سمجھا ہی نہیں وصل کا مطلب کیا ہے
اجنبی بن کے ملاقات ہمیں کاٹتی ہے
ہم نے اشکوں سے یہ دیکھا تھا عبارت ہوتے
چاند تاروں سے بھری رات ہمیں کاٹتی ہے
شکریہ آپ نے اوقات بڑھا دی لیکن
بعض اوقات یہ اوقات ہمیں کاٹتی ہے
وہ جو کہتے تھے، کرو بات کہ خوشبو بکھرے
اب وہ کہتے ہیں، تری بات ہمیں کاٹتی ہے
پوچھنے آتے ہیں حالات کسی غیر کے ساتھ
اور یہ صورتِ حالات ہمیں کاٹتی ہے
(صغیر احمد صغیر).
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment