Sunday, 24 November 2019

شکریہ آپ نے اوقات بڑھا دی لیکن بعض اوقات یہ اوقات ہمیں کاٹتی ہے

رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے
وہ ہے تنہائی کہ برسات ہمیں کاٹتی ہے

تم جوکہتے ہو کہ بس رات گئی بات گئی
تم کو معلوم ہے یہ بات ہمیں کاٹتی ہے

اس نے سمجھا ہی نہیں وصل کا مطلب کیا ہے
اجنبی بن کے ملاقات ہمیں کاٹتی ہے

ہم نے اشکوں سے یہ دیکھا تھا عبارت ہوتے 
چاند تاروں سے بھری رات ہمیں کاٹتی ہے

شکریہ آپ نے اوقات بڑھا دی لیکن
بعض اوقات یہ اوقات ہمیں کاٹتی ہے

وہ جو کہتے تھے، کرو بات کہ خوشبو بکھرے
اب وہ کہتے ہیں، تری بات ہمیں کاٹتی ہے

پوچھنے آتے ہیں حالات کسی غیر کے ساتھ
اور یہ صورتِ حالات ہمیں کاٹتی ہے
(صغیر احمد صغیر).

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...