Sunday, 15 December 2019

ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں : یار! اب مر جائیں


نہیں ہے وَجہہ ضروری کہ جب ہو ' تب مر جائیں
اداس لوگ ہیں '  ممکن ہے ۔۔۔۔۔ بے سبب مر جائیں
ہماری نیند کا دورانیـہ ہے رُوز افــزُوں
کوئی بعـیـد نہیں ہے کہ ایک شب مر جائیں
یہ مرنے والوں کو رونے کا سـلسـلہ نہ رہے
کچھ ایسا ہو کہ بَہ یک وقت  ۔۔۔ سب کے سب مر جائیں
یہ اہل ہجـر ۔۔۔۔۔  شـفا یاب تو نہیں ہوں گے
کوئی دَوا ہو کہ جس سے یہ جاں بَہ لب ' مر جائیں
یہ موتیـا تو نہیں ہے'  سـفیـد لاشـیں ہیں
ابُھر کے سطح پَہ آتے ہیں خواب '  جب مر جائیں
ہماری نبض ۔۔۔۔ سمجھ لے'  ہمارے ہاتھ میں ہے
تو صِرف حُکم دے ' بَس دن بتا کہ کب مر جائیں
نہ کوئی روکنے والا '  نہ دریا دُور ۔۔  مگر
سنا ہے'  پیاس سے مرنا ہے مسـتحَب'  مر جائیں؟
یقین کر کہ کئی بار ۔۔۔۔  ایک دن میں ' عمیــرؔ !
ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں :   یار! اب مر جائیں
عُمیــرؔ نجــمـی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...