Saturday, 28 December 2019

توجہ چاہتا ہے غم پرانا سو رہ رہ کر نئے کو کاٹتا ہے

مرے کچھ بھی کہے کو کاٹتا ہے
وہ اپنے دائرے کو کاٹتا ہے
میں اس بازار کے قابل نہیں ہوں
یہاں کھوٹا کھرے کو کاٹتا ہے
اداس آنکھیں پہنتی ہیں ہنسی کو
پھر آنسو قہقہے کو کاٹتا ہے
نہ مجھ کو ہیں قبول اپنی خطائیں
نہ وہ اپنے لکھے کو کاٹتا ہے
توجہ چاہتا ہے غم پرانا
سو رہ رہ کر نئے کو کاٹتا ہے
وہی آنسو وہی ماضی کے قصے
جسے دیکھو کٹے کو کاٹتا ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...