وہ نظروں سے میری نظر کاٹتا ہے
محبت کا پہلا اثر کاٹتا ہے
مجھے گھر میں بھی چین پڑتا نہیں تھا
سفر میں ہوں اب تو سفر کاٹتا ہے
یے ماں کی دعائیں حفاظت کریں گی
یے تعویذ سب کی نظر کاٹتا ہے
تمہاری جفا پر میں غزلیں کہوں گا
صنع ہے ہنر کو ہنر کاٹتا ہے
یے فرقہ پرستی یے نفرت کی آندھی
پڑوسی پڑوسی کا سر کاٹتا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment