جو شخص مرا دست ہنر کاٹ رہا ہے
نادان ہے شاداب شجر کاٹ رہا ہے
کیا یاد نہیں ظلم کا انجام زمانے
کیا سوچ کے سچائی کا سر کاٹ رہا ہے
فطرت کو کئی چہروں کی پرتوں میں چھپا کر
جانے یہ سزا کیسی بشر کاٹ رہا ہے
تعریف غم ہجر کی کیا مجھ سے بیاں ہو
اک زہر ہے جو قلب و جگر کاٹ رہا ہے
دل آج ترے عہد محبت کے بھروسے
تنہائی کا دشوار سفر کاٹ رہا ہے
کل ساتھ تھا کوئی تو در و بام تھے روشن
تنہا ہوں وسیمؔ آج تو گھر کاٹ رہا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment