Monday, 3 February 2020

چھوڑو طبیب یار اسے لاو ڈھونڈ کے ہوتا ہے کیسے ٹھیک یہ بیمار دیکھنا

وہ چاہتا تو ہے مجھے مسمار دیکھنا
ممکن نہیں مگر پس دیوار دیکھنا

اب اس کے انتظار میں رک ہی گئی گھڑی
وہ آئے گا تو وقت کی رفتار دیکھنا

کانٹوں کا احتساب تو کرنے ہو چل پڑے
کچھ پھولوں کا بھی دوستو کردار دیکھنا

جانے لگے ہو چھوڑ کے تو جاو خیر سے
واپس نہ مڑ کے پھر کبھی سرکار دیکھنا

چھوڑو طبیب یار اسے لاو ڈھونڈ کے
ہوتا ہے کیسے ٹھیک یہ بیمار دیکھنا

چپ دوستی کے نام پہ شہزاد ہوں کھڑا
دشمن جو آئے سامنے للکار دیکھنا
شہزاد جاوید

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...