وہ چاہتا تو ہے مجھے مسمار دیکھنا
ممکن نہیں مگر پس دیوار دیکھنا
اب اس کے انتظار میں رک ہی گئی گھڑی
وہ آئے گا تو وقت کی رفتار دیکھنا
کانٹوں کا احتساب تو کرنے ہو چل پڑے
کچھ پھولوں کا بھی دوستو کردار دیکھنا
جانے لگے ہو چھوڑ کے تو جاو خیر سے
واپس نہ مڑ کے پھر کبھی سرکار دیکھنا
چھوڑو طبیب یار اسے لاو ڈھونڈ کے
ہوتا ہے کیسے ٹھیک یہ بیمار دیکھنا
چپ دوستی کے نام پہ شہزاد ہوں کھڑا
دشمن جو آئے سامنے للکار دیکھنا
شہزاد جاوید
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment