بندوق تانتے ہیں، ہدف دیکھتے ہیں، بس!
اپنا ہے بے ضرر سا شغف، دیکھتے ہیں بس!
وہ، جن کو مانگنا بھی پڑے ، اور لوگ ہیں
ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس
تو دیکھ بس خلا میں معلق یہ کائنات
اس سے پرے تو اہلِ شرف دیکھتے ہیں بس
اپنی جگہ پتہ ہے سو مسجد میں جا کے ہم
جوتوں کے آس پاس کی صف دیکھتے ہیں بس
مجھ کو بہ غور دیکھ کے کہنے لگا فقیر
ایسے مریض، شاہِ نجف دیکھتے ہیں بس
گھڑیاں تو بیچ دی تھیں، برے وقت میں، تمام
اب عادتاً قمیص کے کف دیکھتے ہیں بس
سنتے ہیں خواب میں، "طلع البدر" کی صدا
اور چند پاک ہاتھوں میں دف دیکھتے ہیں بس
جب کوئی پوچھے، "خود کو کہاں دیکھتے ہیں کل؟"
ہم اپنی خاک، خاک سے لف دیکھتے ہیں بس
عمیر نجمی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment