یہ قید خانہ ملے گا یا ہتھکڑی ملے گی
جو جتنا بولا اسے سزا بھی بڑی ملے گی
میں اژدھوں سے لڑوں گا پوری بہادری سے
خدائے موسیٰ مجھے بھی ویسی چھڑی ملے گی؟
اُسے ہرا کر بھی تم کبھی نہ ہرا سکو گے
مقابلے میں کبھی جو عورت کھڑی ملے گی
میں پھول بھیجوں گا جس جگہ سے ملی محبت
علی کا نعرہ لگاؤں گا جو تڑی ملے گی
یہاں کے لوگوں نے خواب دیکھے ہیں جاگتے میں
جسے بھی دیکھو وہ آنکھ تم کو گڑی ملے گی
وہ مجھ سے ہو کر خدا کے رستے پہ جا رہا تھا
اسے پتہ تھا کڑی سے کیسے کڑی ملے گی
ازل سے جس میں فقط برا وقت چل رہا ہے
مری کلائی میں تم کو ایسی گھڑی ملے گی
گلاب کیسے لگیں گے خوشبو کہاں سے آئے
ہمارے گملوں میں صرف مٹی پڑی ملے گی
مجھے تو چھوڑو تم آ کے باغوں کا حال دیکھو
بِنا تمہارے ہر ایک ٹہنی جھڑی ملے گی
میں اپنے پیاروں میں آج ایسے سکون میں ہوں
پتنگ بیری میں جس طرح سے اَڑی ملے گی
ندیم راجہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment