Tuesday, 11 February 2020

آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے


بے سہارا ہوں سہارا بھی کہاں ملتا ہے
ڈوبتا ہوں تو کنارہ بھی کہاں ملتا ہے
آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر
اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے
یاد ہے تم کو رہا کرتے تھے ہم ساتھ کبھی
وہ حسیں دن وہ نظارہ بھی کہاں ملتا ہے
لوگ اب مجھ کو ستاتے ہیں کوئی بات نہیں
اب وہی قرب تمارا بھی کہاں ملتا ہے
دوست دیتے تھے کبھی ہم کو سہارا ثاقب
ہائے وہ آج سہارا بھی کہاں ملتا ہے
نادر ثاقب

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...