بے سہارا ہوں سہارا بھی کہاں ملتا ہے
ڈوبتا ہوں تو کنارہ بھی کہاں ملتا ہے
ڈوبتا ہوں تو کنارہ بھی کہاں ملتا ہے
آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر
اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے
اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے
یاد ہے تم کو رہا کرتے تھے ہم ساتھ کبھی
وہ حسیں دن وہ نظارہ بھی کہاں ملتا ہے
وہ حسیں دن وہ نظارہ بھی کہاں ملتا ہے
لوگ اب مجھ کو ستاتے ہیں کوئی بات نہیں
اب وہی قرب تمارا بھی کہاں ملتا ہے
اب وہی قرب تمارا بھی کہاں ملتا ہے
دوست دیتے تھے کبھی ہم کو سہارا ثاقب
ہائے وہ آج سہارا بھی کہاں ملتا ہے
ہائے وہ آج سہارا بھی کہاں ملتا ہے
نادر ثاقب
No comments:
Post a Comment