Saturday, 15 February 2020

ہجر بھی لے ہی لیا، دشت کے آزار کے ساتھ بحث کیا کرتا میں البیلے دکاں دار کے ساتھ

ہجر بھی لے ہی لیا، دشت کے آزار کے ساتھ
بحث کیا کرتا میں البیلے دکاں دار کے ساتھ

کون کمرے میں کِھلا باغ اٹھا لایا ہے
کس نے تصویر لگائی ہے یہ دیوار کے ساتھ

آخری عمر میں کیا عشق سے ریٹائر ہوں
درد کوئی تو رہے صبح کے اخبار کے ساتھ

وقت سے بھاپ کےانجن کا تقابل کیسا
میں قدم کیسے ملاؤں تری رفتار کے ساتھ

رعب ایسا تھا کہ دشمن بھی مقابل نہ ہوئے
سانپ بل کھاتے رہے خوف سے، دستار کے ساتھ

ہم سگِ کوچہ۶ِ دلدار کہیں جاتے نہیں
بیٹھے رہتے ہیں ادب سے تری دیوار کے ساتھ

آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...