ہجر بھی لے ہی لیا، دشت کے آزار کے ساتھ
بحث کیا کرتا میں البیلے دکاں دار کے ساتھ
کون کمرے میں کِھلا باغ اٹھا لایا ہے
کس نے تصویر لگائی ہے یہ دیوار کے ساتھ
آخری عمر میں کیا عشق سے ریٹائر ہوں
درد کوئی تو رہے صبح کے اخبار کے ساتھ
وقت سے بھاپ کےانجن کا تقابل کیسا
میں قدم کیسے ملاؤں تری رفتار کے ساتھ
رعب ایسا تھا کہ دشمن بھی مقابل نہ ہوئے
سانپ بل کھاتے رہے خوف سے، دستار کے ساتھ
ہم سگِ کوچہ۶ِ دلدار کہیں جاتے نہیں
بیٹھے رہتے ہیں ادب سے تری دیوار کے ساتھ
آزاد حسین آزاد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment