موےٓ مژگاں سے ترے سینکڑوں مر جاتے ہیں
یہی نشتر تو رگ جاں میں اتر جاتے ہیں
حرم و دیر ہیں عشاق کے مشتاق مگر
تیرے کوچے سے ادھر یہ نہ اُدھر جاتے ہیں
کوچہٓ یار میں اول تو گزر مشکل ہے
جو گزرتے ہیں زمانے سے گزر جاتے ہیں
شمع ساں جلتے ہیں جو بزم محبت میں ترے
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں
اثر آب بقا خاک رہ عشق میں ہے
وہی زندہ ہیں یہاں آ کے جو مر جاتے ہیں
تم جو چڑھتے ہو نظر پر تو تمہارے ہوتے
سب حسینانِ جہاں دل سے اُتر جاتے ہیں
زاہدو تم کو جناں ہم کو در یار پسند
خیر جاوٓ تم اُدھر کو ہم ادھر جاتے ہیں
زندے کیا اہل عدم کو بھی پھنسا لاتے ہیں
زلف کے بال اگر تابہ کمر جاتے ہیں
کیا اثر نام علیؑ میں ہے کہ لیتے ہی امیرؔ
کام بگڑے ہوئے جتنے ہیں سنور جاتے ہیں
امیر مینائی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment