Monday, 17 February 2020

تو سنگ دل سہی قاتل سہی شفیق سہی قسم خدا کی کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا

بتوں کے بعد خدا کا بھی کچھ پتا نہ ملا
ملا رہے تھے مگر ٹھیک سلسلہ نہ ملا

وہ کہہ رہے تھے کہ تشریح مدعا کیجے
تلاش کی توہمیں کوئی مدعا نہ ملا

جناب شیخ یہ کیا ماجرا ہوا آخر
سنا ہے آپکو کعبے میں بھی خدا نہ ملا

گماں یہ تھا کہ تھجے ڈھونڈ ہی کے دم لیں گے
حال یہ ہے کہ اپنا بھی کچھ پتا نہ ملا

تو سنگ دل سہی قاتل سہی شفیق سہی
قسم خدا کی کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا

وہ راہ دیر و حرم کہ راہ مے خانہ
بغیر صدق کسی کو وہ دل ربا نہ ملا

قسم خدا کی عدم جام زہر پی لیں گے
بہ اتفاق اگر آج دل ربا نہ ملا___!!

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...