بتوں کے بعد خدا کا بھی کچھ پتا نہ ملا
ملا رہے تھے مگر ٹھیک سلسلہ نہ ملا
وہ کہہ رہے تھے کہ تشریح مدعا کیجے
تلاش کی توہمیں کوئی مدعا نہ ملا
جناب شیخ یہ کیا ماجرا ہوا آخر
سنا ہے آپکو کعبے میں بھی خدا نہ ملا
گماں یہ تھا کہ تھجے ڈھونڈ ہی کے دم لیں گے
حال یہ ہے کہ اپنا بھی کچھ پتا نہ ملا
تو سنگ دل سہی قاتل سہی شفیق سہی
قسم خدا کی کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا
وہ راہ دیر و حرم کہ راہ مے خانہ
بغیر صدق کسی کو وہ دل ربا نہ ملا
قسم خدا کی عدم جام زہر پی لیں گے
بہ اتفاق اگر آج دل ربا نہ ملا___!!
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment