Tuesday, 18 February 2020

تیرے منسوب گداگر نے یہیں رہنا ہے پھٹ بھی جائے تو،،،، ،،گریبان کہاں جاتا ہے


راستے ہیں بڑے سنسان کہاں جاتا ہے
رات گہری ہے مری مان کہاں جاتا ہے

ریل کے شور مچاتے ہوئے انجن کے طفیل
رونے والوں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے

تیرے منسوب گداگر نے یہیں رہنا ہے
پھٹ بھی جائے تو،،،، ،،گریبان کہاں جاتا ہے

آخرِ عمر بھی اس وصل کی خواہش پہ نثار
جان جاتی ہے پہ ارمان کہاں جاتا ہے

کون خاموش طبیعت سا نکل آتا ہے
تجھ سے مل کر مرا ہیجان،،،،،کہاں جاتا ہے

اس سرائے سے نکل جانے کے رستے کم ہیں
دل میں ٹھہرا ہوا مہمان کہاں جاتا ہے

بعد مرنے کے کہاں جاتی ہیں روحیں آزاد
کاش معلوم ہو انسان کہاں جاتا ہے

آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...