Thursday, 20 February 2020

میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے


مرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے
یہ دل اپنی حدوں میں رہ کے اتنا ٹوٹ جاتا ہے
میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں
ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے
میں جس لمحے کی خواہش میں سفر کرتا ہوں صدیوں کا
کہیں پاؤں تلے آ کر وہ لمحہ ٹوٹ جاتا ہے
مرے خوابوں کی بستی سے جنازے اٹھتے جاتے ہیں
مری آنکھیں جسے چھو لیں وہ سپنا ٹوٹ جاتا ہے
نہ جانے کتنی مدت سے ہے دل میں یہ عمل جاری
ذرا سی ٹھیس لگتی ہے ذرا سا ٹوٹ جاتا ہے
دل ناداں ہماری تو نمو ہی نا مکمل تھی
تو حیرت کیا جو بنتے ہی ارادہ ٹوٹ جاتا ہے
مقدر میں مرے ساگر شکست و ریخت اتنی ہے
میں جس کو اپنا کہہ دوں وہ ستارا ٹوٹ جاتا ہے
سلیم ساگر

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...