جب سے مرے قریب سے وہ ذات کیا گئی
مجھ کو اکیلا پن یہ اداسی بھی کھا گئی
میں سوچ ہی رہا تھا پری ایسی ہوتی ہے
پھر اک حسین لڑکی میرے پاس آ گئی
سب کھیل جانتا ہوں میں اندھا نہیں حضور
یہ زندگی بھی مجھ کو بہت کچھ دکھا گئی
منظر بہت عجیب تھا دلچسپ تھا مگر
اک چڑیا ایک پیڑ کو باتیں سنا گئی
مجھ کو کوئی بیماری نہیں ہے مرے عزیز
شاید کسی کی بات سرہانے لگا گئی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment