Tuesday, 25 February 2020

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر​ دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر​

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر​
دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر​

میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن​
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر​

آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے​
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر​

کبھی اس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے​
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر​

تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں​
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر​

مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے​
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر

کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو​
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر​

بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو​
لوگ اتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر​

سلیم کوثر

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...