Wednesday, 26 February 2020

اس سے آگے ہے گھٹن وحشت ہے کافی دوستا اس سے آگے دوستا اب ساتھ میرے تو نا آ


اس سے آگے ہے گھٹن وحشت ہے کافی دوستا
اس سے آگے دوستا اب ساتھ میرے تو نا آ
میں سراسر عشق ہوں ہارنے والا نہیں
انجام سب ہوں جانتا مجھ کو قِصے نا سنا
تم بہت مجبور تھے حالات نا تھے سازگار
یہ کہانی میرے پیارے مجھ کو پھر سے نا سنا
اس پہ دھر تہمت کوئی اور اپنے دامن کو بچا
یہ سبق ہے بزدلی کا مجھ کو ایسا نا پڑھا
داستانِ غم کو سن ہمدردیاں پر پاس رکھ
آنسووں کو لگام دے ان کی قیمت نا گھٹا
محمد واصف اسلم

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...