Monday, 2 March 2020

ملا ہے فقر تو ورثے میں جدِ امجد سے مجھے یہ فخر ہے ساقی کہ فاقہ مست ہوں میں

یہ حادثات نہ سمجھیں ابھی کہ پست ہوں میں
شکستہ ہو کے بھی ناقابلِ شکست ہوں میں

متاعِ درد سے دل مالا مال ہے میرا
زمانہ کیوں یہ سمجھتا ہے تنگدست ہوں میں

یہ انکشاف ہوا ہی نہیں کبھی مجھ پر
خودی پرست ہوں میں یا خدا پرست ہوں میں

نہ پا سکیں گے جوانانِ بادہ مست مجھے
خود اپنی ذات میں خُم خانہء الست ہو میں

قبول کس نے کیا میری سرپرستی کو
بظاہر ایک قبیلے کا سرپرست ہوں میں

ملا ہے فقر تو ورثے میں جدِ امجد سے
مجھے یہ فخر ہے ساقی کہ فاقہ مست ہوں میں

ساقی امروہی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...