یہ حادثات نہ سمجھیں ابھی کہ پست ہوں میں
شکستہ ہو کے بھی ناقابلِ شکست ہوں میں
متاعِ درد سے دل مالا مال ہے میرا
زمانہ کیوں یہ سمجھتا ہے تنگدست ہوں میں
یہ انکشاف ہوا ہی نہیں کبھی مجھ پر
خودی پرست ہوں میں یا خدا پرست ہوں میں
نہ پا سکیں گے جوانانِ بادہ مست مجھے
خود اپنی ذات میں خُم خانہء الست ہو میں
قبول کس نے کیا میری سرپرستی کو
بظاہر ایک قبیلے کا سرپرست ہوں میں
ملا ہے فقر تو ورثے میں جدِ امجد سے
مجھے یہ فخر ہے ساقی کہ فاقہ مست ہوں میں
ساقی امروہی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment