دے ہی دے آج مجھے اذنِ سفر، جاوں میں
آگے مرضی ہے میری جیسے، جدھر جاوں میں۔۔۔
جتنی شدت سے کبھی میں نے تجھے چاہا تھا
اتنی شدت سے دعا کی ہے کہ مر جاوں میں۔۔۔
کیا رکاوٹ ہے کہ یہ عمر پڑی ہے پاوں
یا تو چپ چاپ گذاروں یا گذر جاوں میں۔۔🔥
اب میرے بچے میرے قد کے برابر آئے
اب میں کمزور نہیں اتنی کہ ڈر جاوں میں۔۔۔
تیری قربت نے بگاڑا تھا گئے سال مجھے
اب تیرے ہجر میں ممکن ہے سدھر جاوں میں۔۔
میں محبت ہوں اثر میرا بہت ظالم ہے
کوئی آسیب نہیں ہوں کہ اتر جاوں میں..❤👌
مدتوں بعد وہ دروازہ کھلا دیکھا ہے
منتظر ہوگا کوئی میرا؟ اگر جاوں میں...👌
تجھ سے اب سیکھ لیا رنگ بدلنے کا ہنر
کیا خبر بات کروں اور مکر جاوں میں..
کومل جوئیہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment