Tuesday, 3 March 2020

ایسے دھتکار نہیں یار چلا جاؤں گا میرا مقصد تھا فقط ایک زیارت کرنا


دور سے بیٹھے ہوئے بوسے عبارت کرنا
اس کی عادت ہے نگاہوں سے اشارت کرنا
ہونٹ رکھ دیتا ہے بے خوف و خطر ہونٹوں پہ
اس کو آتا ہے لبوں سے بھی شرارت کرنا
جس جگہ جاؤں میں بس تم ہی نظر آؤ مجھے
آج مجھ کو عطا حسن بصارت کرنا
اس حسینہ کے علاوہ بھی کسی پر لکھوں
میری ہمت ہی نہیں ایسی جسارت کرنا
وہ جہاں پر بھی گیا مہک اٹھے شام و سحر
پھول کا کام ہے خوشبو کی تجارت کرنا
ایسے دھتکار نہیں یار چلا جاؤں گا
میرا مقصد تھا فقط ایک زیارت کرنا
آج کل کوئی کسی سے بھی نہیں خوش ہوتا
سب کا شیوہ ہے یہاں پر تو حقارت کرنا
لفظ اینٹوں کی طرح چن کے غزل لکھتا ہوں
اتنا آساں بھی نہیں ان کو عمارت کرنا
وقاص احمد🔥

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...