دور سے بیٹھے ہوئے بوسے عبارت کرنا
اس کی عادت ہے نگاہوں سے اشارت کرنا
اس کی عادت ہے نگاہوں سے اشارت کرنا
ہونٹ رکھ دیتا ہے بے خوف و خطر ہونٹوں پہ
اس کو آتا ہے لبوں سے بھی شرارت کرنا
اس کو آتا ہے لبوں سے بھی شرارت کرنا
جس جگہ جاؤں میں بس تم ہی نظر آؤ مجھے
آج مجھ کو عطا حسن بصارت کرنا
آج مجھ کو عطا حسن بصارت کرنا
اس حسینہ کے علاوہ بھی کسی پر لکھوں
میری ہمت ہی نہیں ایسی جسارت کرنا
میری ہمت ہی نہیں ایسی جسارت کرنا
وہ جہاں پر بھی گیا مہک اٹھے شام و سحر
پھول کا کام ہے خوشبو کی تجارت کرنا
پھول کا کام ہے خوشبو کی تجارت کرنا
ایسے دھتکار نہیں یار چلا جاؤں گا
میرا مقصد تھا فقط ایک زیارت کرنا
میرا مقصد تھا فقط ایک زیارت کرنا
آج کل کوئی کسی سے بھی نہیں خوش ہوتا
سب کا شیوہ ہے یہاں پر تو حقارت کرنا
سب کا شیوہ ہے یہاں پر تو حقارت کرنا
لفظ اینٹوں کی طرح چن کے غزل لکھتا ہوں
اتنا آساں بھی نہیں ان کو عمارت کرنا
اتنا آساں بھی نہیں ان کو عمارت کرنا
وقاص احمد🔥
No comments:
Post a Comment