تجھ سے جڑا ہر ایک حوالہ پسند ہے
دل بھی عجیب چیز ہے، کیا کیا پسند ہے
اِس کے تمام تلخ نتائج کے باوجود
اک شخص ہے جسے مرا غصہ پسند ہے
لوگوں کا کیا ہے لوگ تو باتیں بنائیں گے
لوگوں کو میری جان تماشا پسند ہے
کیسے بنے گی بات ہماری.. بتائیے
میں دھوپ، اور جناب کو سایہ پسند ہے
منہ پر منافقوں کو منافق کہوں گا میں
منہ پھیر لے یہاں جو کنایہ پسند، ہے
جب تک ہو مجھ سے اس کی حفاظت کروں گا میں
مجھ کو تمہاری یاد کا ملبہ پسند ہے
پتھر تو پل میں ڈوب کے مرتا ہے سو مجھے
روئی کے ڈوبنے کا طریقہ پسند ہے
میں تجھ کو لکھ رہا ہوں سنہرے حروف میں
یوں بھی کہ تجھ کو رنگ سنہرا پسند ہے
تہذیب حسین
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment