رزقِ سخن بڑھایا گیا داد دی گئی
جسموں کو عین ناپ کے معیاد دی گئی
پہلے سبق میں مجھ کو پڑھایا گیا خدا
اور دوسرے سبق میں تری یاد دی گئی
وحشت کی اک کدال سے چیرا گیا وجود
ریشوں میں ہل چلائے گئے کھاد دی گئی
بٹنے لگی جو روشنی میں پہلی صف میں تھا
یہ اور بات ہے کہ ازاں بعد دی گئی
اپنے عذاب ڈھوتے ہوئے مطمئن تھا میں
پھر ایک دن تمہاری کمی لاد دی گئی ❤️
ذکی عاطف
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment