Saturday, 14 March 2020

اپنے عذاب ڈھوتے ہوئے مطمئن تھا میں پھر ایک دن تمہاری کمی لاد دی گئی

رزقِ سخن بڑھایا گیا داد دی گئی
جسموں کو عین ناپ کے معیاد دی گئی

پہلے سبق میں مجھ کو پڑھایا گیا خدا
اور دوسرے سبق میں تری یاد دی گئی

وحشت کی اک کدال سے چیرا گیا وجود
ریشوں میں ہل چلائے گئے کھاد دی گئی

بٹنے لگی جو روشنی میں پہلی صف میں تھا
یہ اور بات ہے کہ ازاں بعد دی گئی

اپنے عذاب ڈھوتے ہوئے مطمئن تھا میں
پھر ایک دن تمہاری کمی لاد دی گئی ❤️

ذکی عاطف

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...