Saturday, 14 March 2020

عمر بھر ساتھ نبھانے کا ، نہ سوچو پاگل.. ایک جنگل مِیں بَھلا زیست، بِتا سکتے ہو

رات کالی ہے، مُجھے چہرہ دکھا سکتے ہو
تُم فقط اتنا بتاؤ  ،  ابھی آ سکتے ہو.

اِک نئی دُنیا بسانے کی ،  تمنا ہے اگر
تُم مری آنکھ سے کچھ خواب، چُرا سکتے ہو

تُم مری زیست، بڑے شوق سے تصویر کرو..
دیکھ لو ،  دشت کو گُلزار بنا سکتے ہو ؟

عمر بھر ساتھ نبھانے کا ، نہ سوچو پاگل..
ایک جنگل مِیں بَھلا زیست، بِتا سکتے ہو

مَیں ہوں اِک سوکھا ہوا پیڑ، ثمر کیا دوں گا..
تُم عبث چھاؤں کی ،  اُمید لگا سکتے ہو..

بن گیا تو کوئی ، ترمیم نہ کر پاؤ گے
تُم ابھی بھی مری بُنیاد ، گِرا سکتے ہو

سبطین ساحر

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...