رات کالی ہے، مُجھے چہرہ دکھا سکتے ہو
تُم فقط اتنا بتاؤ ، ابھی آ سکتے ہو.
اِک نئی دُنیا بسانے کی ، تمنا ہے اگر
تُم مری آنکھ سے کچھ خواب، چُرا سکتے ہو
تُم مری زیست، بڑے شوق سے تصویر کرو..
دیکھ لو ، دشت کو گُلزار بنا سکتے ہو ؟
عمر بھر ساتھ نبھانے کا ، نہ سوچو پاگل..
ایک جنگل مِیں بَھلا زیست، بِتا سکتے ہو
مَیں ہوں اِک سوکھا ہوا پیڑ، ثمر کیا دوں گا..
تُم عبث چھاؤں کی ، اُمید لگا سکتے ہو..
بن گیا تو کوئی ، ترمیم نہ کر پاؤ گے
تُم ابھی بھی مری بُنیاد ، گِرا سکتے ہو
سبطین ساحر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment