Saturday, 14 March 2020

بس اک فراغؔ بچا ہے جنوں پسند یہاں کہو کہ وہ بھی مرے قافلے میں آ جائے

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے
وہ شخص پھر سے مرے رابطے میں آ جائے

اسے کرید رہا ہوں طرح طرح سے کہ وہ
جہت جہت سے مرے جائزے میں آ جائے

کمال جب ہے کہ سنورے وہ اپنے درپن میں
اور اس کا عکس مرے آئینے میں آ جائے

کیا ہے ترک تعلق تو مڑ کے دیکھنا کیا
کہیں نہ فرق ترے فیصلے میں آ جائے

دماغ اہل محبت کا ساتھ دیتا نہیں
اسے کہو کہ وہ دل کے کہے میں آ جائے

وہ میری راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھا ہو
یہ واقعہ بھی کبھی دیکھنے میں آ جائے

وہ ماہتاب زمانہ ہے لوگ کہتے ہیں
تو اس کا نور مرے شب کدے میں آ جائے

بس اک فراغؔ بچا ہے جنوں پسند یہاں
کہو کہ وہ بھی مرے قافلے میں آ جائے

فراغ روہوی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...