Monday, 30 March 2020

ہم ایسے لوگ کہاں زندگی گزارتے ہیں بس اتنا سوچتے ہیں کل کلاں بچی رہے گی


نہیں رہے گا کہیں کچھ تو جاں بچی رہے گی
خدا کا شکر ہے جائے اماں بچی رہے گی
کسی نے ہاتھ پڑھا ہے مرا بتایا ہے
یہ اک لکیر جو ہے رائیگاں بچی رہے گی
زمین جانتی ہے عاجزی درون و بروں
اسے پتہ ہے تہہِ آسماں بچی رہے گی
بڑھاتے جاؤ ذخیرہ کرو اداسی کو
خرچ ہوئی تو بھلا پھر کہاں بچی رہے گی
ہم ایسے لوگ کہاں زندگی گزارتے ہیں
بس اتنا سوچتے ہیں کل کلاں بچی رہے گی
ذرا سی زیادہ ہمیں دے گیا محبت تُو
ہمارے پاس تو ساری میاں! بچی رہے گی ❤️
ذکی عاطف

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...